منگلورو 9/ستمبر (ایس او نیوز) سینٹ ایلوشیس پری یونیورسٹی کالج منگلورو کی طرف سے طلباء پر کچھ ایسی اخلاقی پابندیاں لاگو کرنے کی بات سامنے آئی ہے، جو اگر کسی مسلم کالج کی طرف سے ہوتیں تو شاید قومی سطح کے میڈیا میں اب تک بہت بڑا طوفان آچکا ہوتا۔
اسی کالج کے ایک سابق طالب علم نے مبینہ طور پر کالج کی طرف سے طلباء کو جاری کیا گیا سرکیولر سوشیل میڈیا پر اپ لوڈ کردیا ہے۔ اسے دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اخلاقی ضابطے کی جو حد بندیاں کی گئی ہیں، وہ بے لگام معاشرہ میں صالح اقدار کے فروغ کی ایک مثبت کوشش ہے۔ لیکن اس کے خلاف آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں اور کالج کے ذمہ داران کو وضاحتی بیان دینے کے لئے آگے آنا پڑا ہے۔
اس مبینہ سرکیولر پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں زیادہ تر طالبات کو قابو میں رکھنے اور اخلاقی حدود کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ طلباء پب اور پارٹی کے کلچر سے دور رہیں۔ طالبات لڑکوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے پرہیز کریں۔لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو چھو کر بات چیت نہ کیا کریں۔ کالج کیمپس میں بوسے بازی اور گلے ملناhugging & kissing یا پھر جذبات بھڑکانے والا رویہ اختیار کرنامنع ہے .تنہا لڑکا اور لڑکیوں کا گروپ یا پھر تنہا لڑکی اور لڑکوں کا گروپ کالج احاطے میں گپ شپ کرتا نظر نہ آئے۔کلاسس میں چھٹی کے دوران لڑکیاں دوسری کلاسوں میں موجود لڑکوں سے ملنے نہ جائیں۔کالج میں چھٹی ہونے کے بعد کیمپس میں رکے رہنے یا درختوں کے نیچے جاکر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔کلاسس اور کینٹین میں برتھ ڈے منانے پر پابندی رہے گی۔
مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کو مہندی لگانی ہوتو صرف ہتھیلی پر لگائی جائے اور اس کے لئے پہلے سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔لڑکیاں بہت زیادہ میک اپ کرنے اور لپ اسٹک لگانے گریز کریں۔آنکھوں میں بہت گاڑھا کاجل لگانے یا آنکھوں کا میک اپ کرنا بھی ممنوع ہے۔ناخنوں پر نقش و نگار اور ٹیٹوس وغیرہ پر بھی پابندی رہے گی۔طلباء اپنے پیروں میں صرف کالی چپلیں اور جوتے استعمال کرسکیں گے۔
بالوں کی تراش خراش کے بارے میں بھی high bun & low bunپر پابندی رہے گی۔بالوں کو رنگنا یا بالوں کو کھلا چھوڑنا منع ہے۔لڑکیاں صرف اپنے لیڈیز روم کے علاوہ کسی اور جگہ پر بال سنوارتی ہوئی نظر نہیں آنی چاہیے۔کالج یونیفار م کو آلٹر نہیں کیا جا سکے گا اور شرٹ کے کالر بٹن کو چھوڑ کر باقی تمام بٹن لگے ہوئے ہونے چاہئیں۔یہ اور اس طرح کی کچھ اور ہدایات اس سرکیولر میں موجود ہیں جو کہ مبینہ طور پر کالج میں نئے طلباء کے orientationکے لئے منعقدہ تقریب کے بعد کالج کے Rules & Regulationsکے نام سے دیا گیا تھا۔
لیکن کالج کے پرنسپال فادر میلوین مینڈوسا کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی سخت اور طلباء کااستحصال کرنے والے قوانین کالج کی جانب سے لاگو نہیں کیے گئے ہیں۔ جو کچھ سوشیل میڈیا پر بتایا جارہا ہے وہ حقیقت سے دور کی باتیں ہیں۔ اس لئے کالج کے ذمہ داران پولیس کے سائبر کرائم شعبہ میں شکایت درج کرنے پر غور کررہے ہیں۔
اسی کے ساتھ پرنسپال نے یہ بات بھی کہی کہ گزشتہ سال ایک طالب علم کے فرار ہوجانے کے پس منظر میں والدین کی طرف سے ہم پر اصرار ہے کہ بچوں کی صحیح نگرانی کریں اور ان کے کردار پر پوری طرح نظر رکھیں۔ کالج کی طرف سے طلباء کی اخلاقی تربیت کے لئے کلاسس چلائے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک orientationپروگرام میں بچوں کو ضابطے کی پابندی کرنے کے لئے ہدایات دی گئی تھیں۔مسٹر میلوین کا کہنا ہے کہ ان کے کالج میں جو قوانین ہیں وہ ضلع کے دوسرے پی یو کالجوں کے مقابلے میں بہت زیادہ نرم ہیں۔ کالج کے ان قوانین سے طلباء کے والدین خوش ہیں اور وہ اسے قبول کررہے ہیں۔انہیں اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے۔ بلکہ کالج میں اس وجہ سے داخلے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔کیونکہ اس کا مقصد طلباء کوپڑھائی کو ہی اپنا ہدف بنانے پر راغب کرنا اور ان کے اندر اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔